Untitled Document

My Diary

PANT YA SHIRT FOLD KAR KE NAMAZ NAHEEN HOTI
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 
کیا پینٹ کو موڑ (fold) کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
موضوع:  عبادات: نماز

جواب:    اس مسئلہ کے پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پینٹ، شلوار یا کپڑا  نہ موڑنے کا حکم کیوں آیا؟  اس کی وجہ  اہلِ اسلام کو تکبر سے پاک کرنا تھا جیسا کہ   سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ  سے  مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے   سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔

(بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،حدیث 3665، ص 667، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا (فولڈ کرنا) اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا  بغیر تکبر  کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی (برا) ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے (مکروہ تحریمی ہے) اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹاناہے)۔
(بحوالہ: عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 6، ص 90)

مذکورہ شرح سے یہ ثابت ہوا کہ کپڑے کو موڑنا مکروہِ تحریمی ہے اور مکروہِ تحریمی کی صورت میں نماز لوٹانی ضروری ہوتی ہے۔ جبکہ کپڑے کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہِ تنزیہی یعنی برا عمل ہے  لیکن اس سے نماز کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

فقہِ حنفی کی معتبر کتاب در مختار میں ہے؛

Razvi Network
HUZOOR ALLAMA MAULANA HUSSAIN AHMED RAZVI RAHMATULLAH ALYH
RAZVI TOWER

JALLEY. PO. JALLEY,

DIST. DARBHANGA - 847302,

BIHAR, INDIA.

Phone : (+91) 709 697 8786

GET IN TOUCH
Phone : (+91) 787 857 4416, (+91) 760 080 3310
Email : topintown11@gmail.com
Available Now in Android
Google Play

Social App of Razvi Network. Share information with attractive picture gallery, Youtube Video, Audio, Books.